49

منعم مجید کی تحریروں میں شہد کی آمیزش، طارق خان نیازی

منعم مجید کا شمار ان چند لکھنے والوں میں ہوتا ہے جو اپنے منفرد طرز ِ تحریر کیو جہ سے آسانی سے پہچانے جاتے ہیں ۔ ان کی تحریروں میں ان کے احساسات ، جذبات اور معاشرتی اقدار سانس لیتی نظر آتی ہیں ۔ وہ حقیقت نگاری میں کہیں کہیں بے رحم بھی ہوجاتے ہیں اور اپنے قلم کو نشتر کے طور پر استعمال کرنے لگتے ہیں یہی بات ان کی تحریروں کو دو آتشہ بنا دیتی ہے ۔ میرے نزدیک یہ قابلِ قدر معاشرتی خدمت اور ادبی فریضہ ہے ۔ ایک جہاد ہے جو یقیناً ہر منفی طاقت کے خلاف جاری رہنا چاہیے ۔ منعم کی اس کتاب کے ہر موضوع کو پڑھنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے انہیں بے حد حساس دل کے ساتھ ساتھ خوبصورت زبان کی خوبیوں سے بھی کس قدر فیاضی سے نوازا ہے ۔ ان کی ہر کہانی ایک مکمل داستانِ لازوال ہے ۔ ان کی یہ فکر افروز تحریریں گواہ ہیں اس بات کی کہ انسان کسی مجبوری کے تحت حالات کے ساتھ سمجھوتہ تو کرسکتا ہے مگر اپنے جذبات ، خیالات اور محسوسات کو ترک نہیں کرسکتا۔ بہت سے لوگ اپنوں سے جذباتی اعتبار سے دور ہونے کی وجہ سے ان کے زیادہ قریب ہوجاتے ہیں ۔ کتاب کو پڑھ کر جابجا یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ روح کی آواز ہے ۔ اس میں بکھرے خیالوں کے بیش قیمت موتی کہیں تو سلگتے ہوئے جذبات ہیں اور کہیں مہکتے ہوئے خیالات۔ شاید اسی وجہ سے یہ تحریریں قاری کو اپنے سحر میں گرفتار کرلیتی ہیں ۔ واقعی یہ کہانیاں نہیں بلکہ حقائق سے اخذ کئے گئے واقعات ہیں اور حقیقی واقعات کہانیوں سے کہیں زیادہ دلچسپ اور توجہ طلب ہوتے ہیں ۔
منعم مجید مجھے اپنے دل کے انتہائی قریب محسوس ہوتے ہیں ۔ ان کی فکر و فہم کا میں دل سے قدردان ہوں ۔ ان کی یہ تحریریں اپنے قاری کو سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں لے جاتی ہیں ۔ شہد اور گود کی آمیزش سے لکھی ہوئی یہ تحریریں زندگی کی تلخیوں اور محرومیوں کے ساتھ ساتھ اپنی لذت آمیز چاشنی سے پڑھنے والے کو ایک خوشگوار کیفیت کا احساس بھی دیتی ہیں ۔
منعم مجید خلیل جبران سے بہت متاثر ہیں اور میرے ایک عرصہ بیروت(لبنان) میں رہنے کی وجہ سے مجھ سے ہمیشہ اس کے فن کے متعلق باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ اس لئے ن کی نظر خلیل جبران کا قول ہے کہ ’’ انسان بہت معصوم ہے اور فطرت بہت شاطر۔ وہ جب چاہتی ہے تو ہم رنگ زمین جال پھیلا دیتی ہے ۔ اسی لئے اس نے پھول میں خوشبو، ہرن میں کستوری اور عورت میں رعنائی رکھی اور جونہی فطرت کا مقصد پورا ہوجاتا ہے تو وہ اپنا دامِ فریب سمیٹ لیتی ہے اسی لئے پھول مرجھا جاتے ہیں ، ہرن شکار ہوجاتے ہیں اور عورتیں بوڑھی ہوجاتی ہیں ۔ ‘‘
بہر کیف ! منعم کے لئے بہت سی دعائوں اور ڈھیر ساری محبتوں کے ساتھ
طارق خان نیازی
سابق میڈیا ایڈوائزر پریذیڈنٹ نیلسن مینڈیلا (جنوبی افریقہ)

15ستمبر 2005
الحمرا ہال میں ’’قابلِ رحم کی تقریب ِرونمائی کے موقع پر پڑھا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں