64

منعم مجید قیمتی اشیاء کی طرح سنبھال کر رکھا جانے والا اثاثہ ہے ، منیر فراز

آج کی یہ تقریب میرا ایک خواب تھا جو غالباً دس سے بارہ برس قبل میں نے دیکھا تھا۔ یہ ایک ادبی پرچے کا خواب تھا جس پر میں نے سن 95میں کام شروع کیا تھا۔ لیکن باوجود کوشش کے وہ پرچہ اشاعت کے مراحل تک نہ پہنچ سکااور مجھے جلد ہی معلوم ہوگیا کہ ادبی پرچوں کے خواب ذرا کم ہی پورے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود میں نے اپنا وہ خواب مرنے نہیں دیا اور ہمیشہ ایک ادبی پرچے کی خواہش خود میں زندہ رکھی میں اسی پرچے کے بارے میں سوچتا اور مایوس ہواکرتا تھا۔ احمد فراز نے کہا تھا نا کہ ’’سنا ہے ایسا مسیحا کہیں سے آیا ہے کہ جس کو شہر کے بیمار چل کے دیکھتے ہیں‘‘ سو ایسے میں منعم مجید اس شہر میں آگیا۔ ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ بھی ایسے ہی خواب دیکھا کرتا ہے ۔ دونوں نے اپنے اپنے خواب سنائے تو ان میں حیرت انگیز طور پر مماثلت تھی۔ ستمبر میں ہم نے پہلی بار اس پرچے کے لئے کاغذ قلم پکڑا، بسم اللہ لکھا اور اپنا کام شروع کردیا۔ منعم مجید سے بے ثمر درختوں کے نیچے جو پہلی ملاقات ہوئی تھی، جہاں ہم نے اپنے خواب شیئر کئے تھے۔ان درختوں پر ابھی دوسرا موسم نہیں آیا کہ ہوپ میگ انٹرنیشنل کے نام سے جہاں ہے ، جیسا ہے کی بنیاد پر ایک مکمل اردو میگزین آپ کے سامنے ہے ۔ اس میگزین کی اشاعت ایک اور ایک گیارہ کے محاورے کے مطابق ہوئی، دو یکساں خواب دیکھنے والوں نے اسے شروع کیا ۔
ایک اعتراف یہاں ضروری ہے اور وہ ہے منعم مجید کی صلاحیتوں کا اعتراف ۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس کم عمری میں اس قدر تخلیقی صلاحیتیں کہاں سے لے آیا ہے اور اس نے وہ تجربات کہاں سے حاصل کئے ہیں جو اس کے ہر کام میں نمایاں نظر آتے ہیں ۔ عمر میں اگرچہ کہ میں ان کا چیف ہوں لیکن کام میں وہ میرے چیف ہیں اس لئے میگزین کے چیف ایڈیٹر بھی وہی ہیں۔ جو کام بگاڑنا ہو وہ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ میرے حوالے کردیتے ہیں اس لئے میگزین میں جو کوتاہیاں آپ کو نظر آئیں گی وہ میرے ہاتھوں سے سرزد ہوئی ہیں جبکہ میگزین کی ساری خوبصورتی تنہا منعم مجید کی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے علاوہ منعم مجید بلند فکر افسانہ نگار بھی ہے ۔ اپنی عمر سے کہیں بڑے افسانے لکھتا ہے ۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ نوجوان قیمتی اشیاء کی طرح سنبھال کر رکھا جانے والا اثاثہ ہے ایسے فنکاروں کی پذیرائی اور حفاظت دونوں ہی بہت ضروری ہیں۔
منیر فراز
منیر فراز ۱۶ دسمبر دو ہزار سات
کویت میں ہوپ میگ انٹرنیشنل کی تقریبِ رونمائی کے موقع پہ پڑھا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں