70

قابل رحم (قابلِ رحم) منعم مجید

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنی ٹائی کی گرہ کھولی اور سامنے پڑی کُرسی پر ڈھیر ہوگیا ۔ آج وہ کافی پریشان تھا ۔کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اسے آگے پیچھے جھلاتے اس کی نظر سامنے دیوار پر لگے آئینے پر پڑی ۔خالی آئینے میں نجانے اس کو کیا نظر آیا کہ یک دم اس کا جسم ساکت ہوگیا ۔ اسی وقت کمرے کی کھڑکی کُھلی تیز ہوا ، مٹی اور سوکھے پتوںکے ساتھ چند پرانی یادیں بھی کمرے میں آن دھمکیں ۔ یادیں جو اس کے لئے ایک بھیانک خواب تھیں۔ اس نے اپنے سر کو جھٹکا اور اُٹھ کر کھڑکی بند کر دی ۔ کھڑکی بند کر کے وہ بوجھل قدموں سے واپس اسی کرسی پر آبیٹھا جو ایک خاص مقصد کے لئے آئینے کے سامنے رکھی گئی تھی۔ مگر اب نہ وہ مقصد تھا اور نہ وہ مقصد والی ۔ سب کُچھ ختم ہو چکا تھا ۔ مصور کافی دیر آئینے کو تکنے کے بعد خود کلامی کا شکار ہوگیا۔
تُم سے بچھڑے آج چارسال بیت چکے ہیں ۔ یہ چار سال کیسے گُزرے اس بارے میں بس اتنا کہوں گا ۔ کوئی سال تُمہیں یاد کرتے کٹ گیا تو کوئی سال تُمہیں بُھلانے کی کوشش کرتے گُزر گیا۔ میری فطرت کی بے چینی کو تُم بہت اچھی طرح جانتی ہو ۔ سوچیں اور خیالات ایک نکتے پر تو اس وقت بھی نہ رکتے تھے جب تُم پاس تھی۔ تُم جو کہ جانتی تھی کسی ٹوٹی اور بکھری ہوئی شے کو کیسے جوڑا جاتا ہے ،کس طرح سنبھالا جاتاہے ۔پر میرے معاملے میں تُم بھی تھک جاتی تھی ۔ قصور ہم دونوں میں سے کسی کا نہ تھا۔ تُم جب بھی اپنے حُسن کی بدلیوںکے ذریعے میری محرومیوں اور کمزوریوں پر اپنی محبتوں کا مینہ برساتی ۔ میں اپنے دل کی بنجر اور بے کار زمین پر یقین اور اُمید کی فصل اُگتے پاتا ۔ تُمہارے معصوم چہرے کو دیکھتے ہی اپنے جسم میں تڑپتے طوفانوں کو تھمتا پاتا ۔ میری زندگی کے سارے پرسکون لمحات تُمہاری ذات سے منسوب ہیں ۔ لیکن افسوس تُمہاری لاکھ کوششوں کے باوجود بھی میرے اندر سے احساسِ کمتری اور محرومیت کا اندھیرا ختم نہ ہوسکا۔ تُمہارے حسن کا جادو مُجھ پر اثر تو کرتا لیکن صرف اُتنی دیر، جب تک میں تُمہارے پاس رہتا ۔ میرے ذہن میں خیالات کی جنگ رُکتی ضرور لیکن صرف اتنی دیر جتنی دیر تُمہاری ملائم انگلیاں میرے بالوں میںپھرتی رہتیں ،جب تک ان سے نکلنی والی محبت کی مقناطیسی لہریں میرے دماغ میں داخل ہو کے اس میں سے پریشانیوں کو باہر کھینچتی رہتیں۔میرے اندر امن و سکون کی کیفیت رہتی لیکن جیسے ہی میں تُم سے ذرا دور جاتا ،تُمہاری محبتوں کے حصار ٹوٹنے لگتے ۔ تُمہارے پہلو سے اُٹھنے سے لے کر تُمہارے گھر کی دہلیز پار کرنے تک کُچھ بھی باقی نہ رہتا اور اگر کُچھ رہ جاتا تو وہ بھی تُمہاری گلی سے نکلتے ہی ختم ہوجاتا ۔ باہر آکر میں خود کو پھر اُسی حالت میں پاتا کہ جس سے پریشان ہو کر میں تُمہارے پاس آتا تھا۔
میری یہ فطرت تُمہیں مُجھ سے بدگماں کرتی گئی اور تُم بے چاری اپنی تیمارداری کے سارے جوہر آزمانے کے باوجود صحیح نہ ہوتا دیکھ کر آہستہ آہستہ مُجھ سے مایوس ہوگئی ۔ ان مایوس اور بوجھل دنوں میں تُمہارا وہ رشتہ آگیا جسے تُم نے کسی خاص مزاحمت کے بنا قبول کر لیا ۔ تُم نے شادی کی حامی کیسے بھری یہ میں نہیں جانتا لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ مُجھے کُچھ زیادہ عجیب محسوس نہ ہوا ۔شاید میرے لاشعور میں کہیں یہ بات پہلے ہی خفیہ طور پر گردش کر رہی تھی کہ میں دُنیا کی کسی بھی عورت کو خوش نہیں رکھ سکتا اور شاید اسی لئے میں تُمہیں بھی کھو دوں گا۔ تُمہاری شادی کی خبر تُم نے خود مُجھے دی ۔ میں تُم سے ملنے تُمہارے پاس آیا اور تُم نے مُجھے اپنے کسی کے پاس جانے کی نوید سنا دی ۔یقینا تُم مُجھ سے کسی خاص رد عمل کی منتظر تھی لیکن تُمہیں مایوسی ہوئی ۔ میںصرف اتنا کہہ پایا ’’چلو اچھی بات ہے ‘‘میرا یہ جواب سُن کر تُمہاری آنکھیں بند ہوگئیں ، تُم دیوار کے ساتھ جا لگی ۔ ایسے میں تُمہارا چہرہ بالکل پھیکا ہوگیا ۔ یوں لگتا تھا ڈوبتے سورج نے تُمہارے چہرے کی ساری سُرخی چُراکر فضا میں پھیلا دی ہو ۔ تُمہارے ہاتھوں کی ہتھیلیاں غیر ارادی طور پر دیوار پر پھر رہی تھیں ۔ اسی کمرے میں ، جہاں مُجھے ہر وقت پھولوں کے باغات دکھائی دیتے تھے، آج اک آگ سی لگی محسوس ہورہی تھی ۔ مُجھے اس آگ اور دھوئیں میں اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا ۔ شاید اس لمحہ میرے چہرے پر پھیلی مایوسی دیکھ کر تُم میرے دل کی حالت سمجھ گئی تھی۔ تُم نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں ، خشک زبان اپنے ہونٹوں پر پھیری اور میری جانب بڑے یقین سے دیکھا لیکن کہیں کوئی امید یاخوش فہمی کا بادل نا پاکر اپنی آنکھیں دوبارہ بند کر لیں ۔ تُمہارا دیوار سے لگا جسم آہستہ آہستہ نیچے ہوتا گیا ۔ تُمہارے بدن پر موجود پیلا لباس اور کھڑکی سے نظر آنے والی آسمان کی سُرخی مُجھے پاگل کئے دے رہی تھی ۔ میں خوفزدہ ہوگیا کہ کہیں آسمان کی یہ آگ تُمہارے اس خوبصورت جسم تک نہ پہنچ جائے۔
گھر واپس آنے کے بعد کُچھ دیر تک مُجھے کُچھ سجھائی نہ دیا۔ تُمہارے ہونٹوں سے سن کر جس بات کو میں کسی خاص ردعمل کے بغیر تُمہارے پاس سے چلا آیا تھا ۔ گھر آکر وہی بات مُجھے پاگل کئے دے رہی تھی ۔ اگلے کتنے دن مُجھے کسی شے کا ہوش نہ رہا ۔ گھر سے باہر نکلنا تقریباً ختم ہوگیا ۔ ادھر تُم یہ سمجھتی رہی کہ میں تُمہیں بھول گیا ہوں۔ لیکن ایسا بالکل نہیں تھا، اس دن سے لے کر آج تک میں تُمہیں ایک لمحے کے لئے بھی نہیں بھول پایا ۔ تُم نہیں جانتی لیکن تُمہیں اتنی آسانی سے بھلایا ہی نہیںجاسکتا۔میری زندگی میں آنے والے تمام خوشی و مسرت کے پل اگر تُمہارے پیار کی دین ہیں تو مُجھے ہر دم تڑپانے والے دُکھ اور تکلیفیں بھی تُمہاری محبت کی قیمت ہیں۔یہ تُم ہو جو مُجھے زبردستی محبت کا قاعدہ پڑھاتے پڑھاتے خود بے وفائی کی کتاب پڑھ گئی۔
میں بہت اچھی طرح جانتا تھا محبت اور پیار میری قبیل کے لوگوں کے لئے نہیں اور اس لئے میں اب تک اس سے دانستہ طور پر بچتا چلا آیا تھا۔ تُم نے میری تنہا اور تاریک راتوں کو اپنے حسن و پیار کے جادو سے روشن کیا تو دوسری جانب میرے سفید اور اُجلے دنوں کو اپنی بیوفائی کے گہن سے سیاہ اندھیروں میں تبدیل کر دیا۔ مُجھے تُم سے تُمہاری بے وفائی سے کوئی گلہ نہیں ۔ مجھے رنج ہے تو اس بات کا آخر تُم نے میرے ساتھ ہی کیوںایسا کیا؟
اچانک آئینے میں ایک شبیہ اُبھری ۔ آنے والی آج بھی اُتنی دلفریب تھی جتنی جانے سے پہلے ۔اس کے چہرے پر ایک بھرپور مسکراہٹ تھی۔ آئینے سے نکل کر وہ سیدھی اپنی مخصوص جگہ پر جا بیٹھی اور بیٹھتے ہی مُسکراتے ہوئے مصور سے گویا ہوئی ۔ تُم آج بھی نہیں بدلے !میں جانتی ہوں !تُم کبھی نہیں بدلوگے ۔
’’میں نے تُمہارے ساتھ کُچھ نہیں کیا ، تُم کل بھی تنہا تھے تُم آج بھی تنہا ہو، تُم کل بھی تنہا ہی ہوگے ‘‘۔ تُمہارے خود کے کہنے کے مطابق میری ذات نے تُمہیں محبت جیسی مقدس شے سے روشناس کروایا تُمہاری بے رنگ زندگی میں مسرتیں بکھیریں ، تُمہیں ہر پل سینے میں دل بن کر دھڑکنے والی یادیںاورکبھی ختم نہ ہونے والے مسرت آمیز لمحات کی مسلسل بارشیں عطاء کیں ۔ تُم جو کہ ایک بنجر اور بے جان زمین پر تنہا مرجھائے پھول کی مانند زندگی سے نااُمید،موت کی دیوار کو چھونے کے خواہشمند تھے ۔ تُمہیں ان مایوس رُتوں اور بے حال زندگی سے پرے کون لایا؟ کون ہے جس نے تُمہیں جینا سکھایا ، تازہ فضائوں میں پرواز کرنا ہی نہیں بلکہ اپنی اُڑان سے لطف اندوزہونا بھی سکھایا ؟ کون ہے جس نے سخت کھردری زمین کو تُمہارے لئے نرم بچھونابنایا ؟۔ کس نے تُمہیں صحرائی تھپیڑوں سے بچا کر حُسن و پیارکی جنت میں لا بٹھایا ؟ جہاں ہر روز محبت کے فرشتے تُمہارا منہ دھلواتے اور خلوص کی پریاں اپنے پروں پر اس جنت کے دلفریب نظارے کرواتیں ۔ اتنا سب ملنے کے باوجود تُم خوش نہیں تھے توکوئی کیا کرتا؟ میں تُم سے ان سب باتوں کے بعد صرف اتنا کہوں گی ’’ تُم کل بھی ناشکرگُذارتھے،تُم آج بھی خود غرض اور بے حس ہو‘‘۔ جس بے وفائی کا رونا تُم مُجھ سے رورہے ہو اس کا گلہ خُدا سے کرو۔ اس حادثے میں میرا ذرہ بھر قصور نہیں ۔ خُدا ایک عورت کوبہت سے مردوں کے نصیب کی محبت دیتا ہے اور ہر عورت بڑی ایمانداری اور انصاف سے اپنے نصیب کے بیماروں کو یہ امرت پلاتی ہے ۔ لیکن میں تُمہیں بتاتی چلوں کے تُم یہاں بھی مُجھ سے زیادتی کر گئے ۔اپنی جھوٹی بے بسی اور مصنوعی لاچارگی کے دُکھ سُنا ، دِکھا اور بتا کر اس سے کئی گنا زیادہ محبت لے گئے جتنی تُمہارے حصے میںلکھی گئی تھی ۔ میری زندگی میں تُم سے بعد آنے والے کتنے ہی مردوں کے نصیب کی محبت تُم اکیلے نے حاصل کر لی ۔ تُم مُجھ پر بے وفائی کا الزام لگا رہے ہو تو سنو میں تُمہیں بتاتی ہوں ، تُم کیا ہو؟تُم ! مصور تُم!! ایک ڈاکو ہو ، چور ہو،لُٹیرے ہو۔ میرے وہ سب جذبات ،احساسات ، محسوسات جو بہت سے لوگوں کی امانت تھے تُم اکیلے نے مُجھ سے چھین لئے ۔ میرے باپ ،بھائی شوہر، بیٹے اور وہ پل بھر کے عاشق جو راہ چلتے مُجھے دیکھتے ہیں ۔ اک نظر کرم کے منتظر ہوتے ہیں ۔ میرے پاس ان کے لئے کُچھ بھی نہیں بچا۔ میں دُنیا کے اس سٹیج پر اپنا کردار اب بھی نبھا رہی ہوں مگر صرف ایک پتلی کی مانند آج بھی میرے پاس وہ نظر ہے جو مرد کو گھائل کر دیتی ہے ۔ مگر اس میں وہ شدت نہیں جو زخم کو مندمل نہیںہونے دیتی ۔ آج بھی میرے پاس وہ آواز ہے جسے سُن کر چلتے قدم بے اختیار رُک جائیں مگر وہ مٹھاس نہیں کے رُکے قدم چلنے سے انکاری ہوجائیں ۔ آج بھی میرے پاس وہ جسم ہے جسے دیکھ کر جذبات بھڑک اُٹھیں مگر وہ محسوسات نہیں جو دل کی دھڑکن تیز کرنے کا سبب ہوتے ہیں ۔ اب بھی میری چال کو ہرنی کی چال سے تشبیہ دی جاتی ہے مگر آج سینکڑوں لوگوں کے درمیان چلتے ہوئے بھی وہ احسا س تفاخر نہیں اُبھرتا جو تُم اکیلے کی موجودگی میں سینے میں موجزن ہوتا تھا ۔
میرا سب کُچھ لوٹ کر مُجھے خزائوں کے حوالے کرنے والا کوئی اور نہیں تُم ہو ۔ یہ تُم ہو جس نے اپنی بے بسی اور محرومیت کا رونا رو کے میری سسکتی زندگی کو ایک مسلسل ماتم میں تبدیل کر دیا ۔ اپنی کم مائیگی کی تپش سے میری ہستی کو جلا کر خاک کر دیا ،خُود کندن بن گئے اور مُجھے راکھ کے ڈھیر میں بدل ڈالا ۔ تُمہیں بنانے سنوارنے کی کوشش میں میں خود اپنے آپ کو بھول گئی اور تُم نے نتیجے میں مُجھے مکمل دُکھوں کے حوالے کر دیا۔ مُجھ سے میرا حال چھینا اورخود ماضی کی دُھند میں چھپ گئے۔ ناراضگیاں ، باہمی رنجشیں پیار کرنے والوں کے لئے کوئی اجنبی شے نہیں ہوتیں ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑا بنا کر آپس میں لڑنا جھگڑنا یہ سب محبت کی پائیداری کا ثبوت ہوتے ہیں ۔ ذرا ذرا سی بات پر روٹھنے کی وجہ اپنے محبوب پر ایک انوکھے اعتماد کی نشانی ہوتی ہے ۔ ہر عاشق و محبوب جانتے ہیں کہ آج کی ناراضگی کل کی ملاقات کا پیش خیمہ ہے ۔آج روٹھ کر جانے والا کل پھر اسی جگہ پر ملے گا۔ مگر مصور تُمہارے ساتھ چلتے ہوئے میںہر لمحہ سہمی رہی ۔ تُم ناراض ہو کر جب بھی جاتے خود کبھی واپس نہ آتے ۔ تُمہاری بات بات پر غصہ میں آجانے والی فطرت نے مُیری محبت کو اُلجھائے ہی رکھا ۔ تُمہارے ساتھ چلتے ہوئے میں کبھی بھی خود پر اپنے آپ پر وہ فخر نہ کر سکی جو ہر پیار کرنے والی لڑکی کا نصیب ہوتی ہے ۔تُم کہتے ہو !’’تُمہاری زندگی کے تمام مسرت و خوشی کے پل میرے پیار کی دین ہیں ‘‘لیکن میں تُمہیں کیسے بتائوں تُمہارے ساتھ گُزارے ان چارسال میں میرے پاس پیار کا کوئی ایسا لمحہ نہیں جِسے میں انمول کہہ سکوں ، کوئی ایسی بات نہیں جو میری زندگی کا حاصل ہو۔ تُم سے جتنا پیار لیا ،زبردستی لیا ۔ تُم کہتے ہو ’’تُمہیں محبت کا قاعدہ پڑھاتے پڑھاتے میں خود بے وفائی کی کتاب پڑھ گئی ‘‘ تُم خود بتائو تُم سے محبت کے دوران تُم نے مُجھ میں میری ذات میں کہیں کوئی کھوٹ پایا تھا؟ میں جانتی ہوںتُمہارا جواب یقینا نہیں میں ہوگا تو پھر تُم خود بولو میں کیا کرسکتی تھی اور کتنی دیر تک تُمہارے ساتھ بنا کسی مقصد کے چلتی رہتی ؟ تُمہارے قریب رہنے والے باقی لوگوںکی نسبتاًمیں سمجھ چکی تھی کہ تُمہیں پیار کی نہیں نفرت کی ضرورت ہے نفرت جو تُمہیں تسکین پہنچاتی ہے ۔خود پر ہر لمحہ تنقید کرتے رہنے کی وجہ سے تُم نے خود کو ایک قابل رحم شخص تصور کر لیا تھا لیکن بجائے اس کے تُم لوگوں کی توجہ اور محبت پر خوش ہوتے اُلٹا تُم نے اُن کے غُصے اور نفرت میں سکون پانا شروع کر دیا ۔ تُم محبت کے نہیں رحم کے متلاشی تھے اور میں تُم سے پیار تو کر سکتی تھی لیکن تُم پر ترس نہیںکھاسکتی تھی ۔
تُم سے دوری کے باوجود ایک بات میں نے محسوس کی ہے کہ تُمہیں میرے کسی اور کے پاس جانے پر بہت دُکھ ہے اور اسی وجہ سے تُم مُجھے بے وفااور ہرجائی گردانتے ہو ۔ جہاں سے تُم دیکھتے ہو بالکل ٹھیک دیکھتے ہو کیوں کہ وہاں سے نظر ہی یہ سب آتا ہے لیکن کاش !کبھی تُم میری جگہ پر آکر بھی سوچتے ،مصور تُمہاری ان سب باتوں کے جواب میں میں بس اتنا کہوں گی ،کسی لڑکی کے لئے پہلا پیار کھونا کتنا بڑا عذاب ہے تُم کبھی نہیں سمجھو گے۔ تُم کبھی نہیں سمجھوگے کیوں کہ تُم بھی ایک مرد ہو اور مصورمیں تُمہیں ایک بات بتاتی چلوںکہ مرد پیار کو ایک دلچسپ کھیل سمجھ کرکھیلتا ہے جبکہ عورت محبت کو زندگی موت کی جنگ سمجھ کر لڑتی ہے اور میری بدقسمتی دیکھو کہ میں یہ جنگ ہار چکی ہوں ۔ لیکن محبت میں مُجھے ناکام کروانے والے تُم ہو یہ تُم ہو جو ہار سے دُکھی ہونے کی بجائے خوشی اور فرحت محسوس کرتے ہو اور تُم نے اپنی فطرت کے ہاتھوںمجبور ہو کر مُجھے بھی ہارنے پر مجبور کر دیا کیوں کہ تُم یہ نہیں جانتے تھے کہ محبت کے اس کھیل میں ایک شخص کی ہار دونوںکی تقدیر بن جاتی ہے ۔ میں تُم سے پوچھتی ہوں کہ تُم نے اپنا شوق پورا کرنے کی خاطر مُجھ بے گناہ کا ہی انتخاب کیوں کیا؟
میں مانتی ہوں کہ تُمہاری طرف پیشقدمی میرا ہی جُرم ہے ۔یہ میں تھی جس نے تُمہیں اپنے لئے ،اپنے پیار کے لئے منتخب کیا ۔ اپنے دل کو تُمہارے قدموں میں رکھا اور تُمہیں من مندر کا دیوتا مان لیا ۔ لیکن مصور تُم تو سمجھدار تھے ۔ اپنی فطرت کو جانتے تھے اگر میں بچپنے یا نادانی میں کوئی غلطی کر رہی تھی ۔تُم مُجھے سمجھا سکتے تھے ۔ مُجھے واپس بھیج سکتے تھے پر تُم نے ایسا کُچھ نہیں کیا ۔ تُم نے نہ صرف میری محبت کو قبول کیا بلکہ مُجھے اپناہمراہی بنا لیا اور پھر بیچ رستہ واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا ۔ ساری دُنیا سمجھتی ہے کہ میں تُمہیں بیچ سفر کے چھوڑ آئی لیکن تُم اور میں بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس نے کس کو چھوڑا ؟ آج! جب کہ لوگوں کی نظر میں میرے پاس دُنیا کی ہر نعمت ہے ۔ان کے خیال کے مطابق زندگی مُجھے اور میں زندگی کو بھرپور طریقے سے گُزار رہی ہوں میں تُم سے بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ مصور تُم نے میرے ساتھ کُچھ اچھا نہیں کیا ۔ تُم نے ایک لڑکی سے اس کا دوست اور ایک عورت سے اس کا محبوب جُدا کیا ہے ۔ میں تو شاید تُمہیں معاف کر دوں لیکن خُدا تُمہیںکبھی معاف نہیں کرے گابھلے ہی تُم اس کے آگے کتنا ہی روتے اورگِڑگِڑاتے رہو ۔
اچانک تیز ہوا زوردار آواز کے ساتھ کھڑکی سے ٹکرائی ۔ مصور نے غیرشعوری طور پر اپنا چہرہ کھڑکی کی جانب گُھمایا ۔کُچھ نہ پاکر اس نے دوبارہ آئینے کی طرف دیکھا لیکن خالی آئینہ اس کا منہ تک رہا تھا ،اُسے مجرم ثابت کرنے والی جاچکی تھی ۔ مصور کرسی سے اُٹھ کر آئینے کے قریب پہنچا اور غور سے اس میں نظرآنے والے اپنے عکس کو دیکھتا رہا وہ سوچ رہا تھا کہ ساری عمر وہ اسے بے وفا، سنگدل اور ہرجائی کے نام سے پُکارتا آیا ہے ۔ مگر آج کتنی آسانی سے وہ اسے گناہ گار ثابت کر گئی ہے ۔ مصور کا دل یہ تسلیم نہیں کر رہا تھا کہ اپنی محبت کا حقیقی قاتل وہ خود ہے ۔ چند لمحے آئینے کو ٹکٹکی باندھ کر تکنے کے بعد وہ پیچھے ہٹا اورکھڑکی کی طرف پلٹا،اسے کھولا اور آسمان کی جانب دیکھنے لگا لیکن آسمان کو گہری خاموشی اور سیاہ تاریکیوں نے گھیر رکھا تھا ۔ کہیں کوئی ہمدرد و غمگسار نہ پاکر وہ سیدھا اس الماری کی جانب لپکا جس میں اس ’’دشمن جاں‘‘ کی آخری نشانی پڑی تھی ۔ شاید یہ واحد شے تھی جو اس کا سب کُچھ واپس لوٹانے کے باوجود مصور کے پاس رہ گئی تھی ۔ یہ اس کے لئے مصور ہی لایا تھا ۔ وہ جب بھی اس ملنے کے لئے آتی اذان کی آواز سنتے ہی نماز پڑھنے کی ضد شروع کر دیتی اور کمرے میں کُچھ نہ پاکر کبھی بسترکی چادر زمین پر بچھا کر جائے نماز کے طور پر استعمال کرتی کبھی اپنا ڈوپٹہ بستر پر بچھا کر ۔اور مصور اس کے پاس بیٹھا اس کو دیکھتارہتا ۔
اس نے جائے نماز کو الماری سے نکالا اور اس پر پڑی گرد کوہاتھ سے جھاڑنے کے بعد اسے زمین پر بچھا دیا۔ چند لمحوں بعد کمرہ مصور کی دبی دبی چیخوں اور سسکیوں سے لرزرہاتھا۔کمرے کی فضا اس کے آنسوئوں سے نم ہوچکی تھی شاید وہ رو رہا تھا ،گِڑگِڑا رہا تھا لیکن نجانے کس لئے ،کس کے لئے ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں