22

مقدس روحیں۔۔۔ (آوازِجرس) منعم مجید

تم کہتی ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ کوئی شخص کسی کو ملنے بنا اس کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟ تمہیں حیرانی ہے تمہارے دل کی دھڑکنیں میری سانسیں جاری رکھنے کا سبب کیسے بن سکتی ہیں؟ تم سوچتی ہو میری مصروفیات تمہاری فرصتوں سے کیسے میل کھاتی ہیں؟ تم یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہوکہ ہم دونوں چاند تک کا سفر کب اور کیسے کرکے آئے ہیں؟ تم سوچتی ہو کہ جب ہم دونوں آج تک ملے نہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ساحل پر میلوں اس حال میں چلے ہوں کہ لہریں ہمارے قدموں کے بوسنے لینے کی طلب میں ایک دوسرے کو کچلنے کی کوشش کرتی رہی ہوں۔ تم سمجھنا چاہتی ہو گرمیوں کا سورج مجھے کیسے ٹھنڈک پہنچاتا ہے ، سردیوں کا پورا چاند میرا جسم کیوں جھلساتا ہے ؟ کاش کبھی تم میری جگہ کھڑی ہوکے اپنے کمرے کی بالکونی کی جانب دیکھو تو شاید جان جائو۔ ہوسکتا ہے تم یہ بھی سمجھ جائو کہ تمہارے جوان ہوتے ہی آسمان پر موجود بہت سی دیویوں کے بُت خود بخود کیسے ٹوٹے، کیوں ٹوٹے ؟ ریگزاروں کی دھول تمہارے قدموں سے ٹکرا کر صرصر سے صبا میں کیسے بدلتی ہے ؟ تمہاری موجودگی میں صحرائوں سے بادل کیوں نہیں چھٹتے ؟ تم تو یہ بھی نہیں جانتی کہ ہر روز آسمان سے کتنے فرشتے تمہیں چھونے کی حسرت لئے آسمان سے زمین تک کا سفر بنا کسی حکم کے کرتے ہیں ۔ تمہارے لئے یہ بھی حیران کن ہے کہ میں جو ہر حکمران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولنے کے فن سے آشنا ہوں کیوں تمہارے اپنے ہی بنائے ہوئے خیالی چہرے کو دیکھنے سے بھی شرماتا ہوں ۔ تم مجھ سے ہمیشہ پوچھتی ہو’’میں اجالے سے کیوں دور بھاگتا ہوں ، اندھیروں کو کیوں کھوجتا ہوں ؟ ‘‘ سحر ! میں تمہیں کیسے بتائوں کہ یہ اجالا تمہیں مجھ سے چھیننے کی کوشش کرتا ہے اور یہ اندھیرا ہے جو تمہیں اس سے چھپاکر میری آغوش میں لابیٹھاتا ہے ۔ سحرتم میری اس فطرت کو پاگل پن کا نام دیتی ہو اور میں انتہائے محبت کا، محبت جو جسم نہیں روح کی زبان ہے ، روح جو پاک ہے ، مقدس ہے مگر افسوس بہت ہی کمیاب ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں