76

چہرے(قابلِ رحم) منعم مجید

میں نے اپنی زندگی میں کچھ چہرے ایسے دیکھے ہیں جو بیچارگی کی مکمل تصویر تھے ۔ میں آخری سانس تک ان چہروں کو فراموش نہیں کرسکتا۔ پہلا چہرہ ایک بچے کا تھا جو اپنی چھوٹی بہن کو اپنا غبارہ دینے کے بعد آنکھوں میں آنسو بھرے بہن کے غبارے کو آسمان کی بلندیوں میں گم ہوتا دیکھ رہا تھا۔ دوسرا چہرہ ایک ماں کا تھا۔ اس کا چھ سالہ بچہ ہسپتال میں آپریشن ٹیبل پر اپنی زندگی کی جنگ ہار گیا تھا۔ وہ سٹریچر پر پڑی بچے کی لاش کو بالکل خاموشی سے دیکھ رہی تھی اور اس کے گالوں پر انتہائی اطمینان سے ہاتھ پھیررہی تھی ۔ تیسرا چہرہ ایک کچرااُٹھانے والے بچے کا تھا۔ جو رات کے اندھیرے میں کچرے کے ڈھیرپرسے گندے اور گلے سڑے پھل چن کر کھارہا تھا اور اس پر بھی ڈر رہا تھا کہ کہیں کوئی اس سے یہ نعمت چھین نہ لے ۔ ان سب کے علاوہ ایک چہرہ اور بھی ہے۔ اور وہ چہرہ ہے ایک باپ کا کہ جس کو اپنی جوان بیٹی کی میت کو غسل کے بعد چارپائی پر رکھنا پڑا اور ایسے وقت میں وہ شخص جس کو کسی نے کبھی مشکل سے مشکل حالت میں گھبراتے نہیں دیکھا تھا لڑکھڑا گیا ۔ ہاں سچ ! واقعی کچھ دکھ برداشت سے باہر ہوتے ہیں ۔۔۔ میں ان چہروں کو کبھی بھول نہیں پائوں گا ۔ یہ چہرے مُجھے اپنا تعاقب کرتے محسوس ہوتے ہیں اگر میری موت کبھی کسی بند کمرے میں تنہائی میں ہوئی تو انہی چہروں کی وجہ سے ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں