50

منعم مجید ۔۔۔۔ ایک سچا تخلیق کار

سچ کہنا اور سچ سننا دونوں ہی جاں لیوا عمل ہیں ۔ ایک میں زبان کٹتی ہے تو دوسرے میں سانس رکتی ہے ۔ منعم مجید ایک ایسا سرپھرا تخلیق کار ہے جو دونوں اذیتوں سے گزررہا ہے ۔ وہ خندہ پیشانی سے حالات کا مقابلہ کرتا ہے ۔ غمناکیوں کا اپنا ہی ایک لطف ہے کہ ؎
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا
اس کے زہر ناک افسانوں سے لے کر آتش آسا خط تک سب کچھ ایک ذہین اور سمجھدار شخص کی سوچ کا حامل ہے جسے کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ اس کی زبان آگ اگلتی ہے مگر اس کی آنکھ آنسو بہاتی ہے ۔ وہ ٹوٹ کر محبت کرنے والا اور جواباً چاہے جانے کا خواہش مند نوجوان ہے ۔ پہلا کام اس کے بس میں ہے دوسرا نہیں ۔ وہ اتنا سچا ،حساس اور معصوم شخص ہے کہ فی الوقت ہمارے معاشرے میں اس کی گنجائش نہیں بنتی۔
میں ہر گز یہ نہیں کہتا کہ اس نے جو لکھا ہے ٹھیک لکھا ہے مگر میں اسے غلط بھی نہیں کہتا۔ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اپنے والد ِ محترم کے ساتھ لہجہ تلخ ہے مگر زیادہ غور کرنے پر اس مٹھاس کی شدت سکرین کی طرح محسوس ہوتی ہے ۔
وہ ٹھیک ہی تو کہتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ بچہ اپنے والد سے کتنی محبت کرتا ہے ۔ وہ بچہ بھی کہ جسے یکسر نظر انداز کردیا جائے ، اپنے والد کی ٹانگوں سے چمٹنے کے لئے سارا دن دہلیز پر آنکھیں رکھ چھوڑتا ہے کہ کب اس کا باپ آئے اور وہ اسے چھو سکے ۔
اس نے سوالات اٹھائے ہیں ۔ ہمیں ان کا جواب دینا ہے ۔ وہ بار بار ہمیں جھنجھوڑتا ہے اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ آپ اس سے لاکھ آنکھ چرانے کی کوشش کریں ۔۔ مگر نہیں ۔۔۔ آپ کو اس کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ ۔۔۔ اس کی دلیل آپ کو لاجواب کرتی ہے ۔ میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ اس کا ’’باپ کے نام ایک خط ‘‘ سب والدین کو پڑھنا چاہیے ۔ یہ خط بہت قیمتی ہے کہ شاید اسے پڑھ کر بہت سے ولادین خود کو اور اپنی اولاد کو بربادی سے بچا لیں ۔ دوسری اہم بات اس کی خدا کے بارے میں تشکیک ہے جو سراسر اس کا ردعمل ہے وگرنہ مجھے تو اس کے دل میں خدا ہی خدا نظر آیا ہے کیونکہ سچ وہی بولتا ہے جس کے دل میں نور ہوتا ہے یہ نور حاصل کرنے کے لئے خدا کے برگزیدہ بندوں نے کشٹ کاٹے اور انہیں خُدا نے خلافت سے نوازا۔

سعد اللہ شاہ
15ستمبر 2005
الحمرا ہال میں ’’قابلِ رحم کی تقریب ِرونمائی کے موقع پر پڑھا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں