72

منعم مجید ۔۔۔۔غازی بھی اور شہید بھی

سقراط جب زہر کا پیالہ پی رہا تھا اس کے شاگرد رو رہے تھے ۔ سقراط مسکراتے ہوئے مخاطب ہوا ’’تم کیوں رو رہے ہو؟ ۔ موت کی وادی میں تو میں جارہا اور زہر کا پیالہ میں پی رہا ہوں تمہیں کیا ہوگیا ہے اپنے آپ کو رو رو کر ہلکان کیوں کررہے ہو؟ ‘‘شاگردوں نے یک زبان کہا کہ ہم تو اس لئے روتے ہیں کہ ہمارا استاد بے گناہ مارا جارہا ہے ۔ سقراط کے چہرے پر شادمانی کی کہکشاں پھیل گئی اور اس نے اپنے شاگردوں سے کہا ۔اچھا ! تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارا استاد گناہ گار مارا جائے۔ تم اللہ کے حضور سجدہ شکرادا کیوں نہیں کرتے کے استاد بے گناہ مارا جارہا ہے ؟ سچائی کی سزا کتنی کڑی اور کیسی سخت ہے اس کا اندازہ تم کسی سچے انسان کی سیرت کے مطالعہ سے کرو۔ میں نے جب سعد اللہ شاہ کے تاثرات پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑائی اور منعم مجید کو ’’ایک سچا تخلیق کار‘‘ کے عنوان سے پڑھا تو میں نے ماننے سے انکار کردیا۔ مجھے سعد اللہ شاہ کی شخصیت کا کمزور پہلو نظر آیا کہ اسے اس کتاب میں منعم مجید کی کون سی بات پسند آئی ہے ۔ وہ والد گرامی کا گستاخ، منہ زور، تیور بدلتا ، جنون کی سرحدوں کو چھوتا ہوا ایک آوارہ سا لڑکا ہے مگر کچھ دن بعد میں نے اس کتاب کو دوبارہ بغور پڑھا اور حیران کن طور پر اس دفعہ مجھے منعم مجید مجھے ایک مختلف لکھاری دکھائی دیا۔ وہ مجھے منافقت کے تپتے صحرا میں بادِ صبح کا ایک خوشگوار جھونکا محسوس ہوا۔ میں نہیں جانتا کہ مجھے وہ اچھا کیوں نہیں لگتا ۔ مجھے سچائی کی قدروقیمت کا علم ہے مگر شاید ہم جھوٹ ، مکر ، فریب کے کلچر میں سچائی کے جھونکے کو جھٹلا دیتے ہیں ۔ آج کے دور میں یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے رات صبح سے خطاب کررہی ہو۔ ہم سورج کی کرنوں سے کیسے تقاضا کرسکتے ہیں کہ وہ طلوع تو ہومگر اس کی کرنیں زمین پر نہ پڑیں ۔ مجھے آہستہ آہستہ منعم مجید میں ایک عظیم انسان کے اوصاف دکھائی دئیے ۔ سقراط تو صرف ایک ہی دفعہ زہر کا پیالہ پی کر امر ہوگیا مگر منعم مجید ہر روز مرتا ہے ہر روز جیتا ہے ۔ وہ غازی بھی ہے اور شہید بھی ۔
؎ غازی مرا کرتے نہیں مر مر کے جیا کرتے ہیں
تم سلامت رہو ہر روز کے مرنے والے
منعم مجید نہ والد کا گستاخ ہے اور نہ ہی والدہ کا عدمِ مشتاق۔ وہ تو ٹوٹ کر چاہنے والا افسانہ نگار ہے ، ادیب ہے ، صحافی اور ان سب سے بڑھ کر وہ ایک عظیم انسان ہے ۔ اس کے دل کو پلٹ کر دیکھو تو اس میں انسانیت کی عظمت کی بازیابی کے نقوش ملیں گے ۔ اس کی تحریریں سچائی اور راست بازی کی انتہا ہیں ۔ وہ آئینہ دکھاتا ہے آئینے توڑتا نہیں ۔ اس کی خیال میں ڈوبی ہوئی تحریریں فکری رعنائیوں سے لبریز ہیں ۔ وہ جغادری ادیبوں کے نظروفریب سے کوسوں دور ہے ۔ ’’قابلِ رحم ‘‘کے افسانے اور ’’باپ کے نام ایک خط ‘‘سب کچھ ہی حیران کن ہے ۔ شاید ایسے ہی خطوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ
؎نامہ کے بند کو ذرا آہستہ کھولئے
آتش بھری ہوئی ہے کہیں جل نہ جائے ہاتھ
جن لوگوں نے برسات میں جلتے ہوئے گھر دیکھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جلنے اور جلادینے کی کیفیت کیا ہوتی ہے ۔ منعم مجید نے اس خط میں اپنے بچپن کے ان مصائب و آلام کا ذکر کیا ہے جن سے وہ گزرا ہے ۔ اس خط کو دوبارہ پڑھنے کے بعد میں بھی سعد اللہ شاہ کی اس بات کا معترف ہوجاتا ہوں کہ منعم مجید ایک سچا لکھاری ہے ۔وہ فکری اعتبار سے 100سال سے اوپر کا ایک بوڑھا دانشور ہے مگر اس کے اندر کا بچہ آج بھی اپنے باپ کی انگلی پکڑکر چلنے کی خواہش دل میں لئے بیٹھا ہے ۔ منعم مجید کو دیکھتا ہوں تو وہ مجھے صداقت کے چراغوں کی لو کو تیز کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ لیکن یہاں میں منعم مجید کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ وہ سچ ضرور لکھے مگر اتنا بھی یاد رکھے کے سچے لوگوں کو کبھی کبھی زہر بھی پینا پڑتا ہے ۔اس نے ترقی کی منازل اتنی کم عمر میں کیسے طے کیں یہ بھی اپنی جگہ پر بہت حیران کن ہے ۔ اس کی نظیر اس عمر کے لڑکوں میں نہیں ملتی ۔ میں منعم مجید کو مزید کامیابیوں و کامرانیوں کے لئے اسے رفتارِ کُن کی دعا دیتا ہوں ۔
؎تیرا شباب بڑھے عمرِ جاوداں کی طرح
منشا ء قاضی
سینئر صحافی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں