87

قحط (آوازِ جرس) منعم مجید

کہتے ہیں جاپان میں قحط پڑا تو وہاں کے لوگ عشق کرنا بھول گئے تھے ۔ کتنی عجیب بات ہے نہ یہ ؟ کیا سچ میں ایسا ہوسکتا ہے؟ کیا بھوک اتنی ظالم شے ہے کہ اس کے سامنے عشق جیسا جذبہ اپنا اثر کھودے؟ میں نہیں مانتی یہ سب۔تم جانتے ہو نا میکڈونلڈز کے شیک، کے ایف سی کے برگر ، سٹار بکس کی کافی یہ سب کبھی میرے لئے کتنی اہمیت رکھتے تھے ۔ ان جگہوں پر تمہارے سنگ جانا میرا کیسا جنون تھالیکن تمہارے بعد سب اپنی کشش کھو بیٹھی ہیں ۔ جو کبھی بھولے سے کہیں چلی جائوں ،وہاں موجود لوگ میری پسندیدہ اشیاء کا ڈھیر لگا دیتے ہیں اور میںسامنے رکھی ان چیزوںسے تمہاری یادیں چنتی ہوں باقی سب ان چُھوا چھوڑ آتی ہوں ۔ میری دوست کہتی ہیں اگر میں نے اپنی یہ روش نہ بدلی تو وہ دن دور نہیں جب بھوک کے ہاتھوں ماری جائوں گی۔ اور میں انہیں سمجھا نہیں پاتی کہ تمہارے عشق نے میری بھوک ختم کردی ہے ۔ اک بات کہوںجو تم بُرا نہ مانو؟ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے وہ سب ٹھیک کہتی ہیں ، میں سچ مچ بہت کمزور ہوگئی ہوں لیکن تمہیں دیکھے بنا تو میں مرنا بھی نہیں چاہتی۔ اس لئے ہوسکے تو جلد لوٹ آئو۔ ہاں! میں جانتی ہوں تمہارے لئے یہ ممکن نہیں کہ تم جہاں ہو وہاں قحط کا عالم ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں