80

قابلِ رحم کا منعم قابلِ فخر ہے

قابلِ رحم کا منعم مجید قابلِ فخر ہے کیونکہ وہ کسی سے رحم کی التجا نہیں کرتا۔ وہ کسی سے ڈرتا نہیں ۔ اسے نہ مذہب کا خوف ہے ، نہ معاشرے کا ۔ وہ نہ قانون کی چارہ جوئی سے خوفزدہ ہے اور نہ اخلاق کی حدود و قیود سے اسے کوئی رغبت ہے ۔ زندگی کا سب سے بڑا خوف موت کا ہے اور وہ موت سے اٹھکیلیاں کرتا ہے ۔ اس سے لطف لیتا ہے ۔ اس کی آئیڈیل زندگی نہیں بلکہ موت ہے ۔ وہ موت کا متمنی ہے کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش موت ہے ۔ ہے نا عجیب و غریب خواہش۔ایسا شخص جسے موت سے محبت ہو زندگی کو مذاق کی طرح گزارتا ہے اور زندگی ایک مذاق کے علاوہ ہے بھی کیا؟ ایک ایسا مذاق جو ہم سے روا ہے ۔ ہم میں سے کچھ لوگ اس مذاق کو سنجیدگی کے ساتھ گزارتے ہیں اور کچھ مذاق ہی لیتے ہیں ۔ منعم مجید زندگی کے معاملے میں سنجیدگی کا قائل نہیں ہے ۔ اس کے پیچھے وہ عامل ہیں جو اپنی ظاہری ہیت میں بڑے دلکش ہیں مگر اپنے اندروں میں کھوکھلے ۔ وہ ان عوامل کے اصل کی جستجو کرتا ہے مگر اصل توانسان کی بھی کچھ بھی نہیں تو ان عوام کی کیا ہوگی؟ سو وہ اس مذاق ، اس پہیلی کو جو قرابت داری کے لئے ہیں بوجھ جانتا ہے ۔ مگر کیا وہ بوجھ ہے؟ میرے خیال میں ابھی وہ اس پہیلی کو نہیں بوجھ سکا۔
زندگی اپنے اصل میں کچھ نہیں اور اگر کچھ ہے تو وہ روح ہے جو عارضی طور پر جسم کو اوڑھ لیتی ہے اور پھر اسے اتنی دیر اوڑھے رکھتی ہے جتنی دیر کوئی کسی پہناوے کو اوڑھ سکتا ہے ۔ ورنہ روح تو اجل سے موجود ہے اور ازل تک اسے فنا نہیں ۔ پھر مرنے والے مر تھوڑی جاتے ہیں بس یوں ہوتا ہے کہ اس کا قالب بدل جاتا ہے ۔ وہ ایک کثیف قالب سے لطیف قالب میں ڈھل جاتی ہے جسے ہم اپنی موجودہ فہم سے سمجھ نہیں سکتے اور پھر ہمیں اس قدرتی عمل سے بچنے کا چارہ بھی نہیں جسے موت کہتے ہیں ۔ سو ہم سب مرنے کے لئے اسباب تلاش کرتے ہیں ۔ دانستہ و نادانستہ چاہتے ہوئے بھی اور نہ چاہتے ہوئے ایک ایسی تلاش کہ جس کا حاصل غیر مرئی ہے اور باقی جو کچھ ہے کچھ بھی نہیں ہے ۔
تو آئیے منعم مجید کی طرف ۔ منعم مجید ایک ایسا تخلیق کار ہے جس کا لب و لہجہ خوفناک حد تک زہر آلود ہے وہ کسی کا ممنون و احسان مند نہیں ہے ۔ اس کے نزدیک اس کی دنیا میں آمد اس کی مرضی کے بغیر ہے اور مرضی کیا ہے اسے یہ بھی پتا نہیں ۔ وہ سخت شاکی ہے اور شکایت اس کی کائنات کے ہر فرد سے ہے ۔ یہاں تک کے وہ خالقِ کائنات سے بھی ناراض ہے لیکن اس کی یہ ناراضگی معصومانہ ہے ۔ اس کا انتساب اپنے امی ابو کے نام ہے مگر ان الفاظ میں ’’اس عورت کے نام جس نے خود عارضی درد سہہ کر مجھے ابدی درد کے حوالے کردیا اور اس مرد کے نام کی مسرت نے مجھے پامال کردیا‘‘ یہ کیسی Sense of gratitudeہے؟ یہ محبت ہے یا پھر شکایت؟ میں فیصلے کا بوجھ نہیں لادنا چاہتا ۔ مجھے تو بس یہ پتا ہے کہ یہ سچ ہے اور سچ کڑوا ہوتا ہے ۔ مگر ایک سوال ہے میرا منعم سے اور آپ سب سے کہ کیا سچ ننگا بھی ہوتا ہے اور اگر ہوتا ہے تو اس نے ایک ننگا سچ اگلا ہے اور اگر نہیں تو اس نے ایک سچ کو ننگا کردیا ہے ۔
منعم کے افسانے اس کڑوے کسیلے اور ننگے سچ کی روشنی میں لکھے گئے ہیں ۔ وہ جذبات کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے اور آپ اس کے ساتھ بہتے چلے جاتے ہیں ۔ وہ ایک ایسے آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑتا ہے جس کا لاوا اپنے سامنے ہر شے کو نیست و نابود کرتا چلا جاتا ہے ۔ جذبات کے اس بہتے ہوئے لاوے کے بہائو میں آپ اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہین اور آپ کے سامنے وہ فلک بوس عمارتیں جن کی بنیاد مذہب اور اخلاق پر ہے زمین بوس ہوتی ہیں۔ آپ ٹھٹکتے ہیں ، کسمساتے ہیں مگر آپ کیا کرسکتے ہیں کیونکہ یہ اس کے جذبات ہیں ۔
منعم کاٹھکرائے جانے اور نہ چاہے جانے کا احساس جو غالباً اسے اس کی فیملی سے ملا اتنا شدید ہے کہ وہ ہر لطیف جذبے کو سنگدلی سے روندتا چلا جاتا ہے ۔ آپ کو اس سے ہمدردی ہے مگر اسے آپ کی ہمدردی کی کوئی پرواہ نہیں ۔ وہ اس چیز سے بے نیاز ہوکر چیختا چلاتا ہے کہ کوئی اسے سنتا ہے یا نہیں ۔ اس کی یہ چیخ و پکار ایسی غیر مردف غزلیں ہیں جن کے قافیے آپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ منعم کا باپ کے نام خط جو کہ کافی طویل ہے اور اس نے خودکشی کی ایک ناکام کوشش کے بعد لکھا مجھے ڈر ہے کہ کہیں خودکشی کرنے والے لوگ اسے آئیڈیل نہ سمجھ لیں ۔
15ستمبر 2005
الحمرا ہال میں ’’قابلِ رحم کی تقریب ِرونمائی کے موقع پر پڑھا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں