73

ظالم لوگ(آوازِ جرس) منعم مجید

محبت کے دعوے بھی کرتے ہو اور کبھی نہ ملنے کے وعدے بھی لیتے ہو۔ روحوں کے ملاپ کو زندگی کا حاصل بھی مانتے ہو اور وصل کی خواہش کو سراب بھی جانتے ہو۔ سمجھ نہیں آتی کہ تم کیا ہو؟ کون سی دنیا سے آئے ہو؟ اور میرا نصیب دیکھو اس پوری دنیا میں بس تمہیں ، صرف اک تمہیں چاہنے کی بھول کربیٹھی۔ اور تم ہو کہ میری محبت کو ہمہ وقت کسی امتحان میں ڈالے رکھتے ہو۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ شاید تمہیں میری اس تڑپ کا بالکل بھی اندازہ نہیں جو مجھے اندر ہی اندر کھائے جارہی ہے لیکن پھر ذرا غور سے دیکھتی ہو تو تمہیں خود سے بھی زیادہ مجبور اور بے حال پاتی ہوں ۔ نجانے وہ کون سے ناکردہ گناہ ہیں جن کا بوجھ اٹھانے کی خواہش تمہیں اس قدر نڈھال کئے دیتی ہے ۔ جانے اس دنیا میں تم اک اکیلے ہی ایسے ہو یا کہیں کچھ اور لوگ بھی اتنے ہی ظالم ہیں جو کسی سے محبت کا دعویٰ بھی کریں اور کبھی نہ ملنے کا وعدہ بھی لیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں