59

سچ لکھنے والوں پر صدیوں کے پہرے ہیں، ظفر چوہدری

انسان اشرف المخلوقات ہے یا Civilized Animalہے ان دونوں باتوں کی تحقیقات ان کی پیروی کرنے والے آج تک کررہے ہیں۔ کچھ ماننے والے چاند اور سورج کو خدا بنا کر پوجتے رہے جبکہ دوسری جانب کچھ نے چاند پر قدم رکھ کر اسکی حقیقتوں تک سے پردہ اُٹھادیا۔معلوم نہیں ابتدا کہاں سے ہوئی اور انتہاء کہاں پر جا کر دم توڑے گی مگر ہمارا تعلق اسی کچھ ہونے نہ ہونے میں اِک حقیقت کی طرح موجود ہے۔ اسی موجودگی کے احساس کے ساتھ میں نے ہر روز کتابوں کے نئے نئے پنے کھولے جن میں ، میں اپنے ہونے کی وجہ تلاش کرتا رہاسینکڑوں کتابیں میری نظر سے گذر کر شعور میں ٹھہریں ، میری زندگی کا سفر بن گئیں۔ آج اچانک ملنے والی کتاب ’’قابل ِرحم‘‘ کے چند صفحات پڑھے اور مجھے یوں محسوس ہواجیسے میری تلاش منزل کے قریب قریب ہے۔ خوبصورت لفظ لکھنا یا حسین چہروں کے بارے میں کچھ کہنا بہت آسان ہے۔ خوبصورت چیزوں کے بارے میں لکھا اور کہا جاسکتا ہے جتنا چاہیں اس لکھنے میں جھوٹ بول لیں۔ لوگ کبھی آپ کو برا نہیں کہیں گے مگر سچ لکھنا اتنا مشکل ہے کہ اس کا شمار زندگی کی تمام مشکلات سے زیادہ مشکل اور موت کی تمام تکلیفوں سے زیادہ تکلیف دہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم سچ سننے کے عادی نہیں ہیں۔ ویسے بھی سچ پر اور سچ لکھنے والوں پر صدیوں سے پہرے ہیں۔ موت کے پھندے اور زہر کے پیالے سچ لکھنے پر ہی انعام میں ملے ہیں۔ مگر ’’قابلِ رحم‘‘ منعم مجید کی سچائیوں کی دلیل ہے ۔ یہ عام قلمی تماش بینوں کی طرح اپنے لفظوں کو کسی طوائف کے کوٹھے پر نچوا نا چاہتے ہیں اور نہ ہی مجھے ان الفاظ کے ذریعے یہ کسی ایوان یا دربار تک رسائی کے شائق دکھائی دیئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج اس کم عمری میں اس نوجوان نے جو کردیا ہے اس سے ہمارا ہی نہیں بلکہ اس قوم کا بھی سر فخر سے بلند ہونا چاہیے کہ ابھی بھی ہماری قوم میں ایسے نوجوان ہیں جو سچ لکھ سکتے ہیں۔ منعم مجید جیسے نوجوان کسی بھی معاشرے میں Red Cellsکی طرح ہوتے ہیں۔ جو قوموں کی حفاظت کرتے ہیں۔ آج مجھے ’’قابلِ رحم‘‘ پڑھنے کے ساتھ ساتھ جو ایک غم تھا وہ منعم مجید کے وطن چھوڑنے کا غم تھا۔ اس صدی میں نہ سہی شاید اگلی صدی میں ہی سہی یا پھر اس سے بھی اگلی صدی میں کبھی تو ایسا وقت آئے گا جب ہم ایسے لوگوں کو اپنا سب سے قیمتی سرمایہ جان کر سینے سے لگائیں گے۔ ہماری بھی کیاروایات ہیں ۔۔۔مرنے کے بعد یاد کرنے کی ، قبروں پر پھول چڑھانے کی پھر لائبریری کے کسی حصے کو ’’قابلِ رحم‘‘ یا اس جیسی کتابوں کے نام منسوب کرنے کی ۔ ہم پھر یہی کریں گے ۔ آج ہم اس نوجوان کو دھتکاریں گے اسے سچ لکھنے کی سزا دیں گے مگر مجھے یقین ہے کہ جب یہ نہیں ہوگا تو ہم اسے مقدس بنا کر پوجیں گے ۔ لیکن اس وقت شاید ہم اس کے تقدس کو تمدن کا فریب پہنارہے ہوںگے منعم مجید اور اس جیسے لوگوں کو یہ ملک کو چھوڑنے سے روکنا چاہیے اور انہیں ان کی تمام تر سچائیوں کے ساتھ ہمیں قبول کرنا ہوگا بصورتِ دیگر ایسا نہ ہو کہ ہمیں آنے والی کتنی ہی صدیوں تک اپنی نئی نسلوں کے سامنے شرمندگی اُٹھانی پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں