67

سُرخ ٹائی (آوازِ جرس) منعم مجید

ساری دنیا کا میڈیا اس پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا ہر طرف بے چینی تھی ۔ سب جاننا چاہتے تھے کہ وہ اپنا جرم تسلیم کرے گا کہ نہیں ۔ ہر چہرے پر سوال تھا سبھی کان جواب سننے کے منتظر اور پھر وہ پردوں کے پیچھے سے نمودار ہوا ۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کے چہرے پر غیر معمولی سکون تھا۔ اس نے سب کے سامنے اس لڑکی سے اپنے جسمانی تعلق کی حامی بھرلی ۔ اگلے لمحے وہ قوم سے اپنی اس غلطی کی معافی کا خواستگار تھا۔ پل بھر میں ذرائع ابلاغ نے دنیا کے کونے کونے میں اس کے اعترافِ جرم کو پھیلا دیا۔ اس کے دشمن مسکرا رہے تھے کوئی اسے جنسی بھیڑیا کہہ رہا تھا تو کوئی ملک دشمن کچھ ایسے بھی تھے جو اسے صدرات کے منصب سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ لیکن ان سب سے بہت دور کہیں کسی گھر کے تاریک کمرے میں اک لڑکی ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھی مسکرارہی تھی۔ اس کے دوست حیران تھے کہ جس شخص نے اس کے چہرے پر یہ کالک مل دی ہے ، اسے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا وہ اس سے نفرت کا اظہار کیوں نہیں کررہی؟ لیکن وہ ان سب سے لاپرواہ مسلسل ہنستی جارہی تھی ۔ ایسے میں اس کی نگاہوں کا مرکز وہ سرخ ٹائی تھی جو اس شخص نے اپنے گلے میں پہنی ہوئی تھی ۔ یہ وہی ٹائی تھی جو اس لڑکی نے اسے تحفتاً دی تھی اور جسے قبول کرتے وقت اس شخص نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جب بھی یہ ٹائی پہنے گا۔وہ بنا کہے سمجھ سکتی ہے کہ وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں