69

سرگوشی(آوازِ جرس) منعم مجید

کل رات جب میں اپنے کمرے کی بالکونی میں بیٹھا آسمان پہ چمکتے چاند کو تکنے میں مصروف تھا کہ اچانک وہ مجھے دو حصوں میں بٹتا محسوس ہوا۔ اک حصہ انتہائی روشن اور زندگی سے بھرپور تھا ‘یہاں ہر شے مسلسل حرکت کا شکار تھی۔ گھڑیوں کے الارم، بستروں سے افراتفری کے عالم میں اٹھتے مرد، کچن میں تیز رفتاری سے کھانا بناتی عورتیں ، سکولوں کی طرف جلدی میں بھاگتے بچے، دفتروں میں سازشیں، تھانوں میں سفارشیں، شادیوں پہ مسرتیں، جنازوں پہ حسرتیں۔ میں نے دیکھے یہاں۔۔۔اپنی ادھوری خواہشوں پہ بین کرتے کچھ لوگ ۔ ادھر زندگی اس قدر تیز رفتاری سے رواں دواں تھی کہ میں نے گھبرا کر اپنی نظر دوسری طرف کرلی لیکن یہاں سب الٹا تھا۔ نہ شوروغل نہ افراتفری، نہ خوشی نہ ماتم میرا دل زور سے دھڑکا ‘ یہاں پھیلا اندھیرا بتاتا تھا کہ اس طرف زندگی ساکت ہوچکی تھی ۔میں اس منظر سے اُکتا کر نظریں ہٹانے ہی کو تھا کہ اچانک مجھے وہاں کسی شے کے موجود ہونے کا احساس ہوا ۔اور پھر میں نے دیکھا وہاں ۔۔۔۔پھولوں پہ اترتی شبنم ، بارش کی بوندیں محسوس کرتے پُرجوش چہرے ، مستی کے عالم میں لہراتی ریشمی زُلفیں، سرد ہوا کے جھونکوں میں سرشاری سے کپکپاتے سینے۔ ساری دنیا کا حُسن چھوڑ صرف محبوب کو تکتی آنکھیں، بوسوں کی شدت سے جلتے رُخسار، تمنائوں سے تڑپتے ہونٹ، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے موسیقی کی دھن پہ رقصاں قدم۔ مجھے دکھائی دیئے ۔۔۔۔نرم بستروں میں گرم سانسوں سے خواب بنتے کچھ لوگ۔
میں سوچنے لگا کہ اصل زندگی کہاں ہے ؟اس طرف جہاں شور ہے ، افراتفری ہے بھاگم دوڑی ہے ۔ یا اس طرف جہاں بس اک لمبی خاموشی ہے ، گہرا سکوت ہے؟ اچانک کسی نے میرے کان میں سرگوشی کی ’’جہاں لوگ جاگتے ہیں وہاں دل سوتے ہیں لیکن جہاں دل جاگتے ہوں ‘وہاں لوگوں کے سونے جاگنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں