80

احسان (آوازِ جرس) منعم مجید

ہم دونوں ہی بہت عجیب ہیں ۔ جُدا ہوتے وقت تم نے پلٹ کر دیکھا نا میں نے اپنے بڑھتے قدم روکے ۔ تم نے مجھے آواز دی نہ میں نے کوئی سرگوشی کی۔ تمہارے آنسو میری نظروں سے اوجھل رہے اور میری سسکیاں تمہاری سماعتوں تک پہنچنے سے قاصر رہیں۔ دنیا کی اس بھیڑ کا ہم دونوں ہی حصہ بن گئے ۔ آج ہر طرف شور ہے، دھواں ہے ، تاریکی ہے سناٹے ہیں ۔ بظاہر سب کچھ نارمل ہے مگر کہیں کوئی خلا ضرور ہے ،ایسا خلا جو کسی طرح پُر نہیں ہوتا۔ پتا نہیں تم بھی یہ سب دیکھ پاتی ہو کہ نہیں لیکن مجھے ہر وقت ایسا محسوس ہوتا ہے ۔ ذہن آج بھی تم اور تمہارے خیال میں بھٹکتا ہے ۔ دل کل بھی تمہارے نام پر دھڑکتا تھا ، سانسیں آج بھی تمہارے نام پر رُکتی ہیں۔دن کل بھی تمہارے ساتھ گزرتا تھا ، راتیں آج بھی تمہاری یاد میں کٹتی ہیں ۔ میرے کمرے کی دیواروں پر لگی تصویریں آج بھی تمہارے نہ آنے کا سبب پوچھتی ہیں ۔ اور ان سب کے درمیان لگا وہ فریم جو کسی خاص موقع کی تصویر کے لئے خالی رکھ چھوڑا گیا تھا آج اپنی اس ویرانی کا سبب پوچھتا ہے ۔ کتنی مرتبہ اسے اتار کر کہیں رکھ چھوڑنے کا سوچا مگر جب ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہوں ، بازو شل ہوجاتے ہیں ، ہمت جواب دے جاتی ہے ۔ اگر ہوسکے تو اک احسان کرجائو۔ اس فریم کو بھر جائو یا پھر اپنے ہاتھوں سے اتار کے کہیں رکھ جائو کہ اب میں اس کے آنسو مزید بہتے نہیں دیکھ سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں